ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میکے ڈاٹ پراجکٹ پر تمام پارٹیوں کے اراکین پارلیمان متحد،کرناٹک کے مفادات کو قربان ہونے نہیں دیا جائے گا

میکے ڈاٹ پراجکٹ پر تمام پارٹیوں کے اراکین پارلیمان متحد،کرناٹک کے مفادات کو قربان ہونے نہیں دیا جائے گا

Thu, 20 Dec 2018 21:26:00    S.O. News Service

بنگلورو،20؍دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے کاویری طاس پر مجوزہ میکے ڈاٹ آبپاشی پراجکٹ کی تملناڈو کے اراکین پارلیمان کی جانب سے مخالفت پر اعتراض کرتے ہوئے آج ریاست کی سبھی سیاسی پارٹیوں کے اراکین پارلیمان نے یہ فیصلہ کیا کہ تملناڈو کے اس رویے کے خلاف وہ پارلیمان کے اندر اور باہر احتجاجی دھرنا دیں گے۔ مرکزی وزیر ڈی وی سدانند گوڈا اور کانگریس پارلیمانی پارٹی لیڈر ملیکا ارجن کھرگے کی قیادت میں سدانند گوڈا کی رہائش گاہ پر منعقدہ میٹنگ میں اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ تملناڈو کے رویے کے خلاف ریاست کی تمام سیاسی جماعتیں متحد رہیں گی، میٹنگ میں سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا ، اراکین پارلیمان ملیکارجن کھرگے ، وزیر دفاع نرملا سیتارامن کے علاوہ کانگریس ، بی جے پی اور جے ڈی ایس کے سبھی اراکین پارلیمان موجود تھے۔ میٹنگ سے مخاطب ہوکر سدانند گوڈا نے کہاکہ ریاست کی زمین ، پانی ، زبان کے معاملوں پر سیاسی امتیاز سے بالا تر ہوکر جدوجہد کی جائے گی۔ میکے ڈاٹ معاملے میں بھی ریاست کی سبھی سیاسی جماعتیں متحد اور متفق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میکے ڈاٹ پر یہ منصوبہ صرف پینے کے پانی کے لئے تعمیر کیا جارہا ہے۔ کرناٹک کے حصے میں کاویری کا جتنا پانی آتا ہے اسی حصے کے استعمال پر یہ پراجکٹ تیار کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت نے اس پراجکٹ کے لئے اصولاً منظوری دے دی ہے، انہوں نے کہاکہ کرناٹک اپنے حصے کے پانی کا استعمال پینے کے لئے کرتا ہے یا بجلی کی پیداوار کے لئے یہ کرناٹک کے اختیار میں ہوناچاہئے، اس میں تملناڈو کو مداخلت کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہاکہ میکے ڈاٹ پراجکٹ سے بنگلور اور آس پاس کے علاقوں کے شہریوں کو پینے کے پانی کا جو مسئلہ ہے اسے کافی حد تک سلجھایا جاسکتاہے۔مرکزی حکومت نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ہی پراجکٹ کو منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی وزیر آبی وسائل سے وہ ایک بار پھر ملاقات کرکے اس موضوع پر بات چیت کریں گے۔ میٹنگ میں دریائے مہادائی کے تنازعے پر ریاست کے موقف سے اتفاق کیا اور کہاکہ اس کو بھی برقرار رکھتے ہوئے مرکزی پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ دوسری طرف تملناڈو کے اراکین پارلیمان نے بھی ایوان کے اندر اور باہر متحد ہوکر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 


Share: